بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سال میں دو مرتبہ قرآن پاک کا ختم کرنے کو قرآن پاک کا حق کہنے کی دلیل

سوال

قرآن کریم کا یہ حق ہے کہ اس کو سال میں دو مرتبہ مکمل تلاوت کیا جائے ۔کیا اس کی کوئی دلیل ہے؟

جواب

قرآن کریم کا یہ حق ہونا کہ اس کو سال میں دو مرتبہ ختم کیا جائے، یہ بات کسی حدیث میں تو ہمیں نہیں ملی، البتہ امام غزالی رحمہ اللہ کی کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ کی شرح ’’اتحاف السادۃ المتقین‘‘ (جس کے مصنف  علامہ زبیدی رحمہ اللہ ہیں،  اس)  میں  امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہ قول منقول ہے کہ سال میں دو مرتبہ قرآن پاک کا ختم کرنا قرآنِ پاک کا حق ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین للامام محمد بن محمد الحسینی الزبیدی ، ج:۴؍ ۴۷۴)

باقی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے یہ قول ثابت بھی ہو تو یہاں حق کا مطلب واجب یا فرض نہیں ہے، بلکہ یہ ترغیب کا انداز ہے کہ قرآنِ مجید کا (اللہ تعالیٰ کے کلام ہونے کی حیثیت سے) اتنا تو حق ہے کہ سال بھر میں اسے کم از کم دو مرتبہ پڑھا جائے۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی دنیاوی حیات کے آخری سال رمضان المبارک میں جبریل امین کے ساتھ قرآنِ مجید کا دو مرتبہ دور فرمایا تھا، ممکن ہے کہ اس سے بعض بزرگوں نے اسیناس لیا ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے جب رمضان المبارک میں دو مرتبہ دور فرمایا تو  کم از کم سال میں دو مرتبہ تو قرآنِ مجید پڑھ لینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201494
تاریخ25-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں