بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زرم، قیسوا، زمال اور ماریہ نام رکھنے کا حکم

سوال

مندرجہ ذیل ناموں کے بارے میں راہ نمائی فراہم کردیں کہ یہ مسلمان بچوں کے لیے مناسب ہیں یا نہیں؟

زرم، قیسوا، زمال اور ماریہ

جواب

1۔ ’’زرم‘‘  کے معنی لغت میں آتے ہیں: ذلیل و رسوا، کنجوس، تنگ دست، ایسا شخص جس کے معین و مددگار نہ ہونے کے برابر ہوں، بے چین جسے کسی جگہ قرار نہ ہو۔

"زرم : (معجم الرائد) (اسم) 1- زرم : ذليل 2- زرم بخيل 3- زرم : مضيق عليه 4- زرم : قليل المساعد والمعين 5- زرم من لا يثبت في مكان".

2۔ "قِیْسُوْا": یہ فعل امر ہے، نام نہیں ہے۔

3۔ زِمال کے معنی کم زور و بزدل کے آتے ہیں۔

"زِمال : (معجم الرائد) زمال - و زمالة - (اسم) 1- ضعيف جبان".

مذکورہ ناموں میں سے کوئی بھی نام رکھنا درست نہیں، لہذا لڑکوں کے نام رکھنے ہوں تو  انبیاءِ کرام  علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کوئی نام یا اچھے معنیٰ والا عربی نام رکھ لیں، اور لڑکیوں کے نام رکھنے ہوں تو صحابیات رضی اللہ عنہن کے اسماء میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے۔ ہماری ویب سائٹ کے سرورق پر اسلامی نام کے سیکشن میں لڑکوں اور لڑکیوں کے اسلامی نام موجود ہیں، جنس اور حرف منتخب کرکے نام پسند کرسکتے ہیں۔

’’ماریہ‘‘  نام رکھنا درست، بلکہ باعثِ برکت ہے؛ کیوں کہ ’’ماریہ‘‘ رسول اللہ ﷺ  کی وہ باندی تھیں،  جن سے آپ ﷺ کے صاحب زادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ تولد ہوئے۔  ’’ماریہ‘‘ کا معنیٰ ہے سفید رنگت والی۔

القاموس المحيط (ص: 477):

"وامرأة مارية: بيضاء". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201481
تاریخ25-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں