بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ سہو نہ کرنے کی وجہ سے نماز کے اعادہ کا حکم

سوال

 اگر کسی پر سجدہ سہو واجب تھا، اس نے سہوا سجدہ سہو ترک کر دیا تو کیا اس کی نماز واجب الاعادہ ہوگی؟

جواب

سجدہ سہو واجب ہو اور ادا نہ کیا تو اس نماز کا وقت کے اندر اعادہ واجب ہے، وقت گزرنے کے بعد اس کو لوٹانے کی تاکید کم ہے، تاہم لوٹانا لینا چاہیے، تاکہ نماز کسی کمی کوتاہی کے بغیر صحیح ادا ہوجائے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح  (ص: 247):
"وإعادتها بتركه عمداً" أي ما دام الوقت باقياً وكذا في السهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها حتى  خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم، ويكون فاسقاً آثماً، وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم، والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى؛ لأن الفرض لايتكرر، كما في الدر وغيره. ويندب إعادتها لترك السنة". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201480
تاریخ25-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں