بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قومی بچت کے نفع کا حکم

سوال

میں نے قومی بچت میں مبلغ 5000 جمع کیے تھے 10سال کے لیے، وقتِ مقررہ سے پہلے میں نے اپنی رقم نکالی۔اس قومی بچت نے مجھے مبلغ 80000روپے منافع دیا۔  سوال یہ ہے کہ یہ رقم جو مجھے ملی ہے حلال ہے یا حرام؟ اگر حرام ہے یا سود ہے تو  میں اس رقم کا کیا کروں؟ دوبارہ قومی بچت میں جمع کروں؟

جواب

آپ نے جس قدر رقم جمع کروائی تھی وہ (اصل رقم) آپ کی ملکیت ہے، اسس سے زائد تمام رقم سود ہے، اس کا استعمال آپ کے لیے جائز نہیں ہے، ممکن ہو تو یہ زائد رقم اسی ادارے کو  ایک خط لکھ کر واپس کردیں؛ کیوں کہ یہ سودی رقم ہے ۔ اور  اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی غریب کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کردیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201468
تاریخ25-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں