بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

الکحل ڈینٹ کا حکم

سوال

الکوحل ڈینٹ حرام یا حلال؟

جواب

ہمیں دست یاب معلومات کے مطابق ڈینٹ سے مراد  ایک کیمیکل ہے جو الکوحل میں  ملاتے ہیں ، اس میں ایک خاص بو ہوتی ہے، اس کی وجہ سے وہ پینے کے قابل نہیں رہتا، اور یہ کیمیل کاسمیٹیکس وغیرہ کے آئٹم میں استعمال ہوتاہے۔نیزجلانے کے لیے بھی استعمال ہوتاہے، اور زیادہ بدبو دار اور زہریلا قسم کا ہوتاہے۔

نیزالکحل کی دو قسمیں ہیں: (1) ایک وہ جو منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب سےحاصل کی گئی ہو،  یہ بالاتفاق ناپاک  وحرام ہے،لہذا اس قسم کے الکحل میں ڈینٹ کا شامل  ہو تو اس کا استعمال اور اس کی خرید و فروخت ناجائز ہے.
(2) دوسری قسم الکحل کی  وہ ہے جو مذکورہ  بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جو، آلو، شہد، گنا، سبزی وغیرہ سے حاصل کی گئی ہو، اس قسم کے الکحل میں ڈینٹ شامل ہو بشرطیکہ ڈینٹ حلال اشیاء سے حاصل شدہ ہوتو اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے بشر ط یہ کہ نشہ آور نہ ہو۔

اگر سوال کا مقصد اس کے علاوہ ہےتو تفصیل اور جن اجزاء سے الکحل ڈینٹ کشید کیاجاتاہے ان کی تفصیل لکھ کر دبارہ دریافت کرلیں۔یاکسی حلال تصدیقی مستند ادارے سے اس سلسلہ میں رابطہ کرلیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144008201447
تاریخ24-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں