بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ سہو لازم نہ ہو اورامام نے کرلیا تو مسبوق کی نماز کا حکم

سوال

اگر امام پر سجدہ سہو لازم نہ ہواور امام کر دے تو مسبوق کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر امام نے سجدہ سہو کیا اور مسبوق نے امام کی متابعت کی ، اور بعد میں امام کو معلوم ہواکہ اس پر سجدہ سہو لازم نہ تھا، اس صورت میں امام اور مدرکین کی نماز توصحیح ہوجائے گی، مسبوق کی نماز میں اختلاف ہے ، فساد اورعدم فساد دونوں قول منقول ہیں، فتویٰ اس پر ہے کہ مسبوق کی نماز بھی درست ہوجائے گی اعادہ کی ضرورت نہیں ۔(1/562امدادالاحکام)

البتہ امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنے کی صورت میں مسبوق کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ سجدہ سہو کا سلام نہ پھیرے، سجدے اور تشہد میں امام کی متابعت کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201445
تاریخ24-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں