بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سپلائی چین فیکٹرنگ میں کام کرنے کا حکم

سوال

کیا کسی سپلائی چین فیکٹرنگ (supply chain factoring) کمپنی میں کام کرنا حلال ہے؟ اس طرح  کی کمپنی کسی ایک کمپنی کی واجب الادا رقم کو کسی دوسری کمپنی کو وقت سے پہلے ادا کردیتی ہیں اور اس پے کچھ شرح سود وصول کرتی ہیں۔ مثلاً زید کے ذمہ میں عمر کے 100 روپے ہیں جو اس کو  3 مہینوں میں ادا کرنے ہیں۔ یہ کمپنی بوقتِ ضرورت عمر کو فوراً  90  روپے دے دے گی اور 3 مہینے بعد زید سے 100 روپے وصول کر لےگی۔

جواب

supply chain factoring کی تفصیلات سے قطع نظر جو مثال آپ نے دی ہے اگر کمپنیاں صرف یہی کام کرتی ہیں  تو  یہ درحقیقت بیع الدین ہے جو کہ جائز نہیں ہے اور سود ہے۔ اس میں عمر کمپنی کو اپنا قرض بیچ دیتا ہے اور کمپنی بعد میں زیادہ وصول کرلیتی ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 280):
"ولاينعقد بيع الدين من غير من عليه الدين. ويجوز من المديون لعدم الحاجة إلى التسليم". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201422
تاریخ23-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں