بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شوہر کے بچے وارث ہوں گے؟

سوال

ایک بندے کے پہلی بیوی سے 3 بچے ہیں اور دوسری سے کوئی اولاد نہیں۔ اس بندے اور پہلی بیوی کی وفات ہو گئی۔ دوسری بیوی کے ترکہ سے کیا اس کے شوہر کے بچوں کو (جو پہلی سے ہیں) وراثت ملے گی؟

جواب

مذکورہ شخص کا ترکہ تقسیم ہوجانے کے بعد دوسری بیوی کے ترکہ سے پہلی بیوی کی اولاد کو میراث نہیں ملے گی۔

حاشية رد المختار على الدر المختار  (6 / 758):
"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكماً كمفقود أو تقديراً كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حياً حقيقةً أو تقديراً كالحمل، والعلم بجهل إرثه". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201393
تاریخ23-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں