بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی رکعتوں کی قضاء

سوال

ایک شخص کی تراویح میں چار رکعت رہ گئیں،  اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟ اور اس میں جو قرأت ہوئی ہے اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

تراویح کی جو رکعتیں جماعت کے ساتھ ادا ہونے سے رہ جائیں انہیں اسی دن ادا کیا جا سکتا ہے۔اس دن کے بعد تراویح کی رکعتوں کی کوئی قضانہیں ہے۔

ان رکعتوں کی جو قرأت رہ گئی ہے  وہ کسی حافظ سے کہہ کر تراویح کی رکعتوں میں سنی جا سکتی ہے، اس سے تراویح میں مکمل قرآن سننے کی  سنت ادا ہوجائے گی۔ رمضان المبارک گزرنے کے بعد اس کی قضا نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201387
تاریخ22-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں