بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نقد خریداری پر کم قیمت اور قسطوں پر خریداری میں زیادہ قیمت مقرر کرنا

سوال

اگر کسی رکشہ کی قیمت 2لاکھ ہے،  اور قسطوں پر اسے 2لاکھ پچاس ہزار پر بیچا جاتاہے ، اور قسطوں کی میعاد  ایک سال تک ہو  تو یہ جائز ہے کیا؟  

جواب

قسطوں پر خرید و فروخت کے جائز ہونے کے لیے ضروری یہ ہے کہ جس وقت سودا طے پا رہا ہو اس وقت باہمی رضامندی سے ایک قیمت مقرر کرلی جائے، مثلاً ڈھائی لاکھ، اور قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کسی قسم کا جرمانہ نہ لگایا جائے، اور قسطیں جلد ادا کرنے کی صورت میں قیمت کم کرنے کی شرط نہ رکھی جائے۔ پس صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ بالا شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے رکشہ کا سودا کیا جائے تو یہ شرعاً جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201376
تاریخ22-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں