بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مال دار والد کا اپنی نابالغ اولاد کے لیے زکاۃ وصول کرنا

سوال

صاحبِ نصاب  والد  اپنی نابالغ اولاد  کے لیے کسی اور سے زکاۃ لے سکتا ہے کہ وہ صرف ان ہی کی ملکیت اور ان پر خرچ ہوگی؟

جواب

صاحبِ  نصاب والدکے لیے اپنی نابالغ اولاد کے لیے زکاۃ لینا   جائز نہیں ۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

"ولايجوز دفعها إلى ولد الغني الصغير، كذا في التبيين. ولو كان كبيراً فقيراً جاز، ويدفع إلى امرأة غني إذا كانت فقيرةً، وكذا إلى البنت الكبيرة إذا كان أبوها غنياً؛ لأن قدر النفقة لايغنيها، وبغنى الأب والزوج لاتعد غنية، كذا في الكافي". (1/ 189)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201369
تاریخ22-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں