بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن کریم کو سجدہ کرنا

سوال

قرآنِ کریم کو سجدہ کرنا کیسا ہے محبت میں؟  میرے دل میں قرآنِ کریم کی محبت ہے قرآنِ کریم کو سامنے رکھ کر سجدہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اللہ جل شانہ کے علاوہ کسی کو بھی سجدہ کرنا جائز نہیں،لہٰذا مصحف (قرآنِ مجید) کو بھی سجدہ کرنا جائز نہیں اگرچہ  وہ محبت کی نیت سے ہی کیا جائے،البتہ قرآنِ کریم کو محبت میں بوسہ دینے(چومنے) کی اجازت ہے، لیکن اس میں بھی یہ احتیاط ضروری ہے کہ قرآنِ مجید کو اٹھا کر بوسہ دیں ،سامنے رکھ کر جھک کر بوسہ نہ دیں۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"وفي القنية في باب ما يتعلق بالمقابر: تقبيل المصحف قيل: بدعة؛ لكن روي عن عمر - رضي الله عنه - أنه كان يأخذ المصحف كل غداة ويقبله ويقول: عهد ربي ومنشور ربي عز وجل، وكان عثمان - رضي الله عنه - يقبل المصحف ويمسحه على وجهه". (6/384 ط:سعید)

وفي سنن ابن ماجه :

"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ مِنْ الشَّامِ سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فقَالَ: "مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟ " قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ، فَوَدِدْتُ فِي نَفْسِي أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنِّي لَوْكُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا... الحديث". (3/ 59ط:دار الرسالة العلمية)

وفي حاشية إبن عابدين :

"وفي الملتقط: التواضع لغير الله حرام".(6/384 ط:سعيد)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

’’قرآن مجید کو چومنا برکت اور تعظیم کی غرض سے درست ہے، لیکن اٹھا کر چومنا چاہیے ،رحل پر رکھے ہوئے جھک کر نہیں چومنا چاہیے‘‘۔(۳ /۵۳۳ط:دارالافتاء جامعہ فاروقیہ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201364
تاریخ22-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں