بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے روزوں کا فدیہ

سوال

 میری ساس صاحبہ کا انتقال ہوگیا، ان کی اولاد اپنی والدہ کے قضا روزوں کا فدیہ دینا چاہتے ہیں، والدہ کے بالغ ہونے سے وفات تک سارے روزوں کا اندازا  لگایا ہے، اب سوال یہ ہے کہ فدیہ موجودہ وقت کی قیمت کے حساب سے دیا جائے یا گزشتہ ادوار کی قیمت کے حساب سے؟

جواب

اگر مرحومہ کے ذمے روزے قضا نہیں تھے تو ورثہ کی جتنی حیثیت ہو مرحومہ کے ایصالِ ثواب کی نیت سے کچھ بھی صدقہ کردیں۔ البتہ اگر روزے قضا تھے اور انہوں نے فدیے کی وصیت نہیں کی تھی، یا روزے قضا نہ ہونے کے باوجود ورثہ از خود تمام روزوں کا فدیہ دینا چاہتے ہیں تو یہ ان کی طرف سے تبرع و احسان ہے، بہر حال فدیہ کی ادائیگی میں موجودہ قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔

"الهندیة" : وتعتبر القیمة یوم الوجوب، وقالا: یوم الأداء، وفي السوائم یوم الأداء إجماعاً وهو الأصح ، ویقوم في البلد الذي المال فیه ولو في مفازة". 
(۲/۲۱۱، الفتاوی الهندیة :۱/۱۸۰) 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201354
تاریخ21-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں