بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام آمدن والے کی دعوت قبول کرنے کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص کسی سودی بینک میں کام کرتا ہے اور آپ کو کچھ کھلاتا ہے یا دعوت کرتا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے، کیوں کہ اس کی تنخواہ میں تو سود کی آمیزش ہے؟

جواب

اگر مذکورہ شخص کی مکمل یا غالب آمدن حرام ہو تو پھر اس کی دعوت قبول نہ کی جائے اور کچھ کھانے یا ہدیہ قبول کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ اور اگر حرام آمدن مغلوب اور حلال آمدن غالب ہو تو پھر کھانے کی گنجائش ہوگی۔

الفتاوى الهندية  (5 /342):
" أَهْدَى إلَى رَجُلٍ شَيْئًا أَوْ أَضَافَهُ إنْ كَانَ غَالِبُ مَالِهِ مِنْ الْحَلَالِ فَلَا بَأْسَ إلَّا أَنْ يَعْلَمَ بِأَنَّهُ حَرَامٌ ، فَإِنْ كَانَ الْغَالِبُ هُوَ الْحَرَامَ يَنْبَغِي أَنْ لَا يَقْبَلَ الْهَدِيَّةَ ، وَلَا يَأْكُلَ الطَّعَامَ إلَّا أَنْ يُخْبِرَهُ بِأَنَّهُ حَلَالٌ وَرِثْتُهُ أَوْ اسْتَقْرَضْتُهُ مِنْ رَجُلٍ ، كَذَا فِي الْيَنَابِيعِ". 
(کتاب الکراہیۃ،الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات،رشیدیہ)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201342
تاریخ21-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں