بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاؤں چھونے کے بعد قرآن کو ہاتھ لگانا

سوال

کیا قرآن پڑھتے ہوئے پیر چھوکر قرآن کو ہا تھ لگانا بے ادبی ہے؟

جواب

دین سراسر ادب کا نام ہے، لہذا جو جس قدر ادب کرے گا وہ اتنا ہی حصہ پائے گا، لیکن شریعتِ مطہرہ نے انسانی اعذار کی بھی خوب رعایت رکھی ہے، لہذا  اگر کوئی شخص قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے کسی عذر کی وجہ سے پاؤں کو ہاتھ لگاتا ہے اور پاؤں پر کوئی گندگی نہ لگی ہو اور پھر وہی ہاتھ قرآن پاک کو لگاتا ہے تو یہ بے ادبی نہیں کہلائے گی اور اگر پاؤں پر ہاتھ لگانے کی کوئی مجبوری نہیں ہے تو قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201312
تاریخ20-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں