بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کے پیسوں میں سے کسی کو ادھار دینا

سوال

زکاۃ  کے پیسوں میں سے کسی کو ادھار دیا جا سکتا ہے؟ وہ ایک ماہ  یا دو ماہ بعد واپس کر دے گا، و ہ بندہ قرض مانگ رہا ہے۔

جواب

زکاۃ  کی رقم سے مراد  اگر وہ رقم ہے جو اپنی زکاۃ میں دینے کے لیے علیحدہ کرکے رکھی ہو، تو اس میں سے کسی کو قرض دینے سے زکاۃ  کی ادائیگی سے سبک دوش نہ ہو گا،  لہذا قرض دی ہوئی رقم واپس آتے ہی  اس رقم کو مستحق کے حوالہ کر دے، یا اس کے متبادل رقم زکاۃ میں ادا کردے۔

اور اگر زکاۃ  کی رقم سے مراد یہ ہے کہ کسی دوسرے نے اسے زکاۃ کی ادائیگی کا وکیل بناکر زکاۃ کی رقم دی ہے تو وکیل کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس رقم میں سے کسی کو قرضہ دے، بلکہ مستحق ہی کو دینا ضروری ہے اور اگر قرض دے دیا تو اس قدر رقم کا ضامن ہو گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201291
تاریخ20-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں