بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلا عذر تراویح چھوڑنا

سوال

کیا تراویح بغیر کسی عذر کے چھوڑ سکتے ہیں؟ جب کہ دوستوں کے ساتھ کہیں مصروف ہوں یا تھک گئے ہوں۔

جواب

تراویح سنتِ موکدہ ہے،بلا عذر اس کو  چھوڑنے کی عادت بنانے والا یا غیر اہم سمجھ کر چھوڑنے والا گناہ گار ہے، خلفاءِ راشدین،صحابہ کرام،تابعین،تبع تابعین،ائمہ مجتہدین اور سلفِ صالحین سے پابندی سے تراویح پڑھنا ثابت ہے لہذا تراویح کا خوب اہتمام کرنا چاہیے، البتہ اگر کبھی عذر کی وجہ سے چھوٹ جائے تو اگر چہ گناہ نہ ہو گا، لیکن بڑی خیر سے محرومی ہے۔ دوستوں کے ساتھ مطلقاً مصروفیت تو تراویح چھوڑنے کے لیے عذر نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 43):
"(التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعاً". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201269
تاریخ20-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں