بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک کے ذریعہ سے گھر خریدنا

سوال

آج کل جو میزان بینک نے پالیسی آفر کی ہے کہ وہ گھر دیتے ہیں اور بیس سال تک گھر کا کرایہ وصول کرتے ہیں اور بیس سال بعد آپ کو گھر کا مالک بنا دیتے ہیں۔ کیا اس طریقے کے مطا بق میزان بینک سے گھر لینا جائزہے یا نہیں؟

جواب

ملک کے جمہور علمائے کرام اور مفتیانِ عظام کی رائے کے مطابق جتنے مروجہ اسلامی بینک ہیں ان کے معاملات مکمل طور پر شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔ سوال میں مذکورہ معاملہ  اور طریقہ کار کے ذریعہ میزان بینک سے گاڑی یا گھر لینا بھی جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس معاملے میں بھی بہت سے شرعی اصولوں کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، مثلاً ایک ہی معاملہ میں اجارہ اور بیع کو جمع کرنا اور دونوں کو عملاً ایک دوسرے کے لیے شرط قرار دینا وغیرہ۔ تفصیلی معلومات کے لیے ہماری کتاب ’’مروجہ اسلامی بینکاری‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201250
تاریخ19-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں