بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مال دار شخص کے نابالغ بیٹے کو زکاۃ دینے کا حکم جب کہ وہ اپنے والد کی پرورش میں نہ ہو

سوال

بچہ نابالغ ہو اور باپ اس کی دیکھ بھال نہ رکھتا ہو، لیکن والد صاحبِ نصاب ہو تو اس کے بچہ کو زکاۃ دینا کیسا ہے؟

جواب

 مال دار (صاحبِ نصاب) آدمی اگر اپنے نابالغ بیٹے کے نفقہ کی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو نابالغ بچے کو زکاۃ دینا جائز ہوگا، بچہ اگر سمجھ دار ہے اور مال کی پہچان رکھتاہے تو زکاۃ پر اس کا قبضہ کرنا بھی درست ہوگا۔ (زکاۃ کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا، بحوالہ فتاویٰ تاتارخانیہ، 2/272 ط: ادارۃ القرآن کراچی) فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201244
تاریخ19-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں