بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض کے پاس قرض ادا کرنے کے پیسے نہ ہوں اور قرض خواہ کے پاس قرض کے پیسوں کی زکاۃ ادا کرنے کے لیے رقم نہ ہوتو زکاۃ کا حکم

سوال

ایک آدمی کا ایک دوسرےآدمی پر قرض ہے اور قرض اتنا ہے کہ وہ نصاب تک پہنچتا ہے، لیکن نہ مقروض کے پاس پیسے ہیں کہ  وہ قرض ادا کرسکے اور نہ قرض خواہ کے پاس زکاۃ ادا کرنے کے پیسے ہیں تو اب وہ کیا کرے؟

جواب

قرض خواہ پر فی الحال قرض کے ان پیسوں کی زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے، لیکن جب بھی قرض کے پیسے وصول ہوجائیں تو اس وقت ان پیسوں کی  پچھلے تمام عرصے کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 305):

"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة).

 (قوله: عند الإمام) وعندهما الديون كلها سواء تجب زكاتها، ويؤدي متى قبض شيئاً قليلاً أو كثيراً إلا دين الكتابة والسعاية والدية في رواية، بحر (قوله: إذا تم نصاباً) الضمير في تم يعود للدين المفهوم من الديون، والمراد إذا بلغ نصاباً بنفسه أو بما عنده مما يتم به النصاب (قوله: وحال الحول) أي ولو قبل قبضه في القوي والمتوسط وبعده الضعيف ط". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201241
تاریخ19-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں