بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے نماز میں پاؤں ڈھانکنا / افطاری کا مسنون طریقہ

سوال

1۔  کیا عورتوں کا نماز میں پاؤ ں کا ڈھانکنا افضل ہے؟

2۔ نیز افطار کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

جواب

1۔۔ عورت کے لیے نماز میں دونوں پاؤں (ٹخنے سے نیچے ) کو کپڑے سے چھپانا ضروری نہیں ہے، دونوں پاؤں کھلے رہنے سے نماز ہوجائے گی، البتہ اگر نامحرم موجود ہوں تو پاؤں چھپاکر نماز پڑھے، اور اگر گھر میں تنہا  نماز پڑھ رہی ہو تو دونوں صورتیں جائز ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 405):
"(وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح (خلا الوجه والكفين) فظهر الكف عورة على المذهب (والقدمين) على المعتمد، وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح".

2۔۔  سورج غروب ہوجانے کے یقین کے بعد  بلاتاخیر افطاری کرلینا سنت ہے، افطاری کرتے وقت یہ دعا پڑھی جائے: ”اللَّهم لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ“ اور افطاری کے بعد یہ دعا پڑھی جائے ” ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“، نیز افطاری کھجور سے کرنا سنت ہے، اگر تر کھجور ہو تو وہ مستحب ہے، وہ میسر نہ ہو تو خشک کھجور اور اگر وہ بھی نہ ہو تو پانی سے کرنا بہتر ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201236
تاریخ19-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں