بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فکس منافع کی شرط پر سرمایہ کاری کا حکم

سوال

اگر میں کسی بندہ سے کچھ پیسے بزنس کے لیے لے لوں اور ہر ماہ اس کو فکس منافع دوں  تو کیا فکس منافع دینا صحیح ہے؟  یا میں اس کے ساتھ کس طرح شرط لگاؤں؟  جب کہ میری اس ڈیل  میں اس کا اصل سرمایہ محفوظ رہتا ہے.

جواب

صورتِ مسئولہ میں فکس منافع دینے کی شرط پر انوسٹمنٹ کرانا شرعاً جائز نہیں، تاہم فی صدی بنیادوں پر  (مثلاً ہر ماہ ہونے والے منافع کا تیس فی صد منافع دینے کی شرط پر) سرمایہ کاری کرانے کی اجازت ہوگی۔  نیز شرکت / مضاربت میں نفع و نقصان دونوں میں شراکت ہوتی ہے، اگر کسی کے سرمایہ کے بہرصورت محفوظ رہنے کی شرط لگائی جائے تو یہ عقد بھی درست نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201201
تاریخ18-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں