بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرکت میں راس المال کا 3 فیصد بطورِ منافع ہر ماہ لینے کا حکم

سوال

 کوئی آدمی دوسرے کے کاروبار میں پیسہ لگائے اور کام کرنے والا مال والے کو ہر ماہ راس المال کے 3 فی صدکے برابر نفع دے تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے ساتھ شرکت کرتا ہے تو ایسی صورت میں منافع  کی جائز تقسیم کے لیے شرعاً ضروری ہے کہ منافع کو آپس میں فی صد کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے، شرعاً منافع کی فی صدی تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ جو نفع حاصل ہو اسے شرکاء کے درمیاں فی صد کے تناسب سے تقسیم کیا جائے، نہ کہ رأس المال (سرمایہ) کا فی صد طے کرکے اسی کے مطابق دیا جائے؛ کیوں کہ اس صورت میں ایک شریک کا حصہ فکس ہوگا جو کہ جائز نہیں ہے۔ مثلاً یوں طے کیا جائے کہ منافع کا 60 فیصد فلاں کا اور 40 فیصد فلاں کا ہو گا، راس المال کا فی صد طے کرنا درست نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144008201178
تاریخ18-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں