بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جماعت میں جو شخص شامل نہیں ہو اس کے لقمہ دینے اور امام کے قبول کرنے سے نماز فاسد ہوجائے گی

سوال

کیا مقتدی کے علاوہ یعنی وہ شخص جس نے نماز شروع نہیں کی ہو کیا وہ امام کو لقمہ یا فتحہ  دے سکتا ہے؟

جواب

نماز میں جو شخص شامل نہ ہو اسے لقمہ دینے کی شرعاً اجازت نہیں، اگر اس نے لقمہ دے دیا اور امام نے اس کا لقمہ لے لیا(یعنی اسے خود سے یاد نہیں آیا، بلکہ بتانے سے معلوم ہوا) تو نماز فاسد ہو جائے گی، البتہ اگر امام نے فوراً لقمہ قبول نہیں کیا، بلکہ اسے خود یاد آگیا اور اپنے یاد آنے پر صحیح پڑھ لیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201172
تاریخ18-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں