بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں متعین نفع ملنے کی صورت میں کاروبار میں پیسہ لگانے کا حکم

سوال

ضلع بھکر میں ایک گروپ جس کا نام FS Links ہے، نے ایک کاروبار شروع کیا ہے. اس میں وہ اپنے کلائنٹ سے 130000 روپے وصول کرتی ہے.جس کی مدت ایک سال ہے. جس کے بدلہ میں کمپنی ماہانہ 7سے 9 ہزار روپے منافع دیتی ہے. اور ایک سال بعد دی گئی رقم 130000 روپے کمپنی واپس کر دیتی ہے. بقول کمپنی وہ روپیہ مختلف کاروبار میں استعمال کرتی ہے. اس سے جو منافع ملتا ہے وہ ہر ماہ کلائنٹ کو دیتی ہے. کاروبار میں ٹنل فارمنگ، پراپرٹی، جنرل سٹور، کاروں اور موٹر سائیکلوں کی بارگیننگ وغیرہ. جب کہ کمپنی کہتی ہے کہ نقصان کی صورت میں کلائنٹ بھی برابر کا شریک ہو گا. کیا یہ درست ہے.؟ جائز ہے؟ انٹرنیٹ پر FS Links لکھ کے سرچ کیا جا سکتا ہے.

جواب

آپ نے سوال میں جو تفصیل ذکر کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمپنی میں پیسہ لگانے پر پیسہ لگانے والے کو نفع کی مد میں ہر ماہ کچھ متعین رقم دی جاتی ہے جو کہ شرکت کے شرعی اصول کے خلاف ہے؛ اس لیے اس گروپ میں پیسہ لگانا شرعاً جائز نہیں ہو گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144008201165
تاریخ17-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں