والدہ کی طرف سے ملنے والے مال کی وراثت کا حکم
سوال
والدہ کی طرف سے ملنے والی وراثت یا جائیداد پر کیا حکم ہے ؟ کیا یہ بھی اسی طرح اولاد میں تقسیم ہوگی جیسے والد کی جائیداد ہوتی ہے؟
جواب
شریعت میں مرد کی طرح عورت کی بھی شخصی ملکیت معتبر ہے، لہٰذا جس طرح مرد کی وفات کی صورت میں اس کے متروکہ مال میں وراثت کے احکام جاری ہوتے ہیں، اسی طرح کوئی عورت وفات پائے اور اس کی ملکیت میں مال وجائیداد ہو تو اس میں بھی وراثت جاری ہوگی، لہٰذا اگر والدہ نے وراثت چھوڑی ہے تو ان کے شرعی ورثاء (اولاد اور والدین، اگرہوں) میں تقسیم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

