بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی نیت کے الفاظ

سوال

" وبصوم غد نویت من شهر رمضان" کیا ان الفاظ سے روزے کی نیت کرنا درست ہے ؟ 

جواب

نیت دل کے ارادے کا نام ہے، اگر کوئی شخص محض دل میں ہی روزے کی نیت کر لےاور زبان سے کچھ نہ کہے تو اتنا کافی ہے، اور اس طرح روزہ درست ہو جائے گا، اور رمضان میں سحری کرنا ہی نیت کے قائم مقام ہے۔ زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں، البتہ زبان سے نیت کر لینا بہتر ہے، اس لیے اگر کوئی شخص رات سے ہی روزے کی نیت کرتا ہے اور یہ الفاظ کہتا ہے " وبصوم غد نویت من شهر رمضان" تو ان الفاظ سے نیت کرنا درست ہو گا۔  

واضح رہے کہ نیت کے یہ الفاظ حدیث میں وارد نہیں ہوئے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201143
تاریخ17-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں