بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح اور بچہ کی پیدائش میں کم سے کم کتنی مدت ہو تو نسب ثابت ہوتا ہے؟

سوال

اگر لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے سے سیکس کرتے ہیں اور لڑکی کو حمل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد دونوں نکاح کر لیتے ہیں, نکاح کے بعد جب بچہ ہوگا تو وہ حلال ہو گا یا حرام ؟

جواب

اللہ رب العزت نے جنسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حلال راستہ نکاح کا رکھا ہے، اور لڑکے لڑکیوں کے آزاد اختلاط ، اور نکاح سے پہلے ہر قسم کے تعلقات کو ناجائز و حرام قرار دیا ہے، پس مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ شریعتِ اسلامیہ کے مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے زندگی گزارے، اور اگر نکاح سے پہلے کسی قسم کا ناجائز تعلق قائم ہوا ہو تو سچے دل سے اپنے اس عمل پر اللہ رب العزت کے حضور توبہ و استغفار کرے۔

مسئولہ صورت میں اگر بچہ کی  پیدائش اور نکاح کے درمیان چھ ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ ہو تو بچہ ثابت النسب شمار ہوگا۔ اور جو بچہ نکاح سے چھ ماہ کے اندر پیدا ہو، وہ ثابت النسب نہیں قرار پائے گا، مگر یہ کہ زنا کی صراحت کیے بغیر شوہر اس کے نسب کا دعویٰ کرے ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201137
تاریخ17-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں