بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی ادائیگی کے وکیل کا اپنا نائب بنانا / مستحق کو موکل کی بتائی ہوئی رقم سے کم دینا

سوال

1-  میں وکیل زکاۃ ہوں، کیا میں اور کسی کو وکیل بنا سکتا ہوں؟

2-  موکل نے مقدار کی تعیین کی ہے  کہ ایک شخص کو اتنا دے دو،  کیا اس سے کم میں دے سکتا ہوں، تاکہ زیادہ لوگوں کو کچھ نا کچھ مل جائے؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں آپ خود بھی مستحق کو زکاۃ دے سکتے ہیں اور کسی اور  کو بھی نائب بناسکتے ہیں کہ وہ مستحق آدمی کو زکاۃ دے دے۔

2۔ موکل نے اگر رقم، تعیین کرکے دی ہے کہ فلاں شخص کو اتنی زکاۃ دے دو، تو اس کی خلاف ورزی درست نہیں ہے، ایسی صورت میں مذکورہ شخص کو اتنی رقم دینا ہی ضروری ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 527):
"(الوكيل لايوكل إلا بإذن آمره) لوجود الرضا (إلا) إذا وكله (في دفع زكاة) فوكل آخر ثم دفع الأخير جاز ولايتوقف". 

وفیہ ایضا: 

"وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلايملك الدفع إلى غيره، كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره، فتأمل".  (2/ 269) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201113
تاریخ16-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں