پانچویں ترویحہ اور وتر کے درمیان ذکر کرنے کا حکم
سوال
کیا تراویح کی آخری یعنی بیسویں رکعت کے بعد بھی تسبیحِ تراویح پڑھنا چاہیے؟
جواب
تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد کوئی خاص تسبیح یا دعا احادیث سے ثابت نہیں، تسبیحِ تراویح کے نام سے جو تسبیح ہمارے ہاں معروف ہے وہ بعض فقہاء نے مختلف روایات کے الفاظ کو جمع کرکے عوام الناس کی سہولت کے لیے مرتب کردی ہے؛ لہٰذا اس کو لازم نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ مطلقاً کوئی بھی دعا یا تسبیح پڑھی جا سکتی ہے اور جس طرح ہر چار رکعت کے بعد کوئی دعا پڑھ لینی چاہیے، اسی طرح 20 رکعت کے بعد اور وتر سے پہلے بھی پڑھ لینی چاہیے، ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 46):
"(يجلس) ندباً (بين كل أربعة بقدرها وكذا بين الخامسة والوتر) ويخيرون بين تسبيح وقراءة وسكوت". فقط واللہاعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

