بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قعدہ اخیرہ میں عبدہ و رسولہ پڑھنے کے بعد امام کا کھڑے ہوجانا اور خیال آتے ہیں بیٹھ کر سجدہ سہو کر لینا

سوال

امام صاحب آخری رکعت کے دو سجدوں کے بعد بیٹھے اور عبدہ ورسولہ تک پڑھنے کے بعد کھڑے ہو گئے، لیکن پورے کھڑے نہیں ہوئے تقریباً درمیان میں ہی تھے کہ بیٹھ گئے اور فوراً سلام پھیر کر سجدہ سہو کر لیا، اس پر مقتدیوں کی طرف سے بے چینی بن گئی،  ایک فریق کا کہنا ہے کہ امام صاحب نے ٹھیک کیا ہے جب کہ دوسرا فریق کہتا ہے کہ مولانا کو دوبارہ عبدہ ورسولہ تک پڑھ کر ہی سلام پھیرنا چاہیے تھا،  آپ راہ نمائی فرمائیں کون سا طریقہ درست اور افضل ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں امام صاحب کا عمل درست ہے، فریقِ  ثانی کا کہنا درست نہیں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:

"رَجُلٌ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا وَقَعَدَ فِي الرَّابِعَةِ قَدْرَ التَّشَهُّدِ إنْ تَذَكَّرَ قَبْلَ أَنْ يُقَيِّدَ الْخَامِسَةَ بِالسَّجْدَةِ أَنَّهَا الْخَامِسَةُ عَادَ إلَى الْقَعْدَةِ وَسَلَّمَ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ وَيَسْجُدُ لِلسَّهْوِ، كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ". (فَصْلٌ سَهْوُ الْإِمَامِ يُوجِبُ عَلَيْهِ وَعَلَى مَنْ خَلْفَهُ السُّجُودَ، ١/ ١٢٩)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201054
تاریخ15-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں