بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک دفعہ میں تین طلاق دینے کا حکم

سوال

 میرے کزن ۔۔۔نے اپنی بیوی کو3بارطلاق دے دی ہے اورقرآن کوہاتھ لگاکردی ہے، ایک ہی بار3 طلاق دی ہے، کیاوہ طلاق ہوگئی یانہیں؟ مہربانی فرماکرجواب قرآن وحدیث کی روشنی میں دیں!

جواب

آپ کے کزن نے اپنی بیوی کو طلاق دیتے ہوئے جو الفاظ کہے تھے بہتر تھا کہ آپ سوال میں وہ لکھ دیتے، بہر حال اگر اس نے ایک دفعہ میں تین طلاق دے دی ہیں تو تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے اسی وقت سے  نکاح ختم ہوگیا ہے ،اب رجوع کی گنجائش نہیں رہی؛ کیوں کہ مطلقہ اس پر حرام ہوچکی ہے ۔

الفتاوى الهندية - (10 / 196):
"وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ وَثِنْتَيْنِ فِي الْأَمَةِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا أَوْ يَمُوتَ عَنْهَا، كَذَا فِي الْهِدَايَةِ". 
فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201044
تاریخ14-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں