بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انصاف کارڈ سے علاج کی سہولت حاصل کرنے کا حکم

سوال

حکومت آج کل جو انصاف صحت کارڈ عوام کو دیتی ہے اس پر اسٹیٹ لائف انشورنس لکھا ہوتا ہے، کیا ایسا کارڈ بنوانا یا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

حکومت جو انصاف صحت کارڈ جاری کرتی ہے اور عوام کو علاج کی سہولت دیا کرتی ہے اس کی فنڈنگ کے  لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ انشورنس اور سود پر مشتمل ہے اور مذکورہ کارڈ بنوا کر علاج کی سہولت حاصل کرنا اس عمل میں ایک طرح کی معاونت ہے؛ لہذا  اگر عام شخص سےاس مد میں کوئی کٹوتی نہیں ہوتی تو اس شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس طریقہ کار سے سے علاج کی سہولت حاصل کرے ،البتہ اگر اس کی مد میں کوئی کٹوتی اس شخص سے بھی ہوتی ہو تو پھر اس شخص کے لیے اپنی کٹوتی (یعنی اپنی طرف سے ادا کردہ رقم) کے بقدر علاج کی سہولت  حاصل کرنا جائز ہے۔

البتہ اگر کوئی مستحق اور غریب ہو تو وہ اس کارڈ سے علاج کی سہولت حاصل کر سکتا ہے؛ اس لیے کہ مذکورہ سودی معاہدہ حکومت کا ہے اور اس میں مستحق شخص بلاواسطہ شامل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201042
تاریخ14-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں