بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازوں کا فدیہ

سوال

میرے والد صاحب تقریباً  79 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے تھے۔ ان کی قضا نمازوں کا فدیہ مروجہ دور میں کتنا ادا کیا جائے گا؟  نیز اس فدیہ کے مصارف سے بھی براہ کرم آگاہ فرمائیں!

جواب

ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے ۔ اور روزانہ وتر کے ساتھ چھ نمازیں ہیں تو ایک دن کی نمازوں کے فدیے بھی چھ ہوئے، اور ایک صدقہ فطر تقریباً پونے دو کلو گندم یا اس کاآٹا یا اس کی قیمت ہے، کراچی اور اس کے مضافات میں اس سال ایک  فطرہ کی رقم 90 روپے ہے۔ فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکات  کا مصرف ہے یعنی مسلمان فقیر (جو سید اور ہاشمی نہ ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو) کو مالک بناکر دینا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201041
تاریخ14-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں