بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے نماز میں مرد کی طرح بیٹھنے کا حکم

سوال

عورت اگر نماز  میں مرد کی طرح بیٹھ جائے  تو کیا کوئی کراہت آئے گی؟

جواب

عورتوں کے لیے پہلے اور  دوسرے قاعدے میں بائیں سرین کے بل، دونوں پیروں کو دائیں جانب نکال کر بیٹھنا مسنون ہے، لہذا اگر کوئی خاتون قعدے میں بغیر عذر کے مردوں کی طرح (یعنی دایاں پاؤں کھڑا کرکے بائیں پاؤں پر) بیٹھ جائے تو اس سے نماز تو ہوجائے گی، البتہ اس کے حق میں یہ مکروہ ہوگا۔

مراقي الفلاح میں ہے:

"و" يسن "تورك المرأة" بأن تجلس على أليتها وتضع الفخذ على الفخذ وتخرج رجلها من تحت وركها اليمنى؛ لأنه أستر لها". ( حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، فصل في بيان سننها، ص: ٢٦٩)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201034
تاریخ14-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں