بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچ تولہ سونے پر زکات کا حکم

سوال

بیوی کے پاس 5تولہ سونا ہے کیا اس پر زکات فرض ہوگی؟ اور ہمارا اپنا گھر بھی نہیں بھائی کے گھر میں رہتے ہیں!

جواب

بیوی کی ملکیت میں جو پانچ تولہ سونا ہے، اس سونے کے علاوہ اگر آپ کی اہلیہ کے پاس کچھ بھی نقدی یا چاندی نہیں ہو تو  اس سونے کی زکات ان پر لازم نہیں ہوگی، تاہم اگر آپ کی اہلیہ کے پاس پانچ تولہ سونے کے ساتھ چاندی یا ضرورت سے زائد نقدی بھی ہو تو سال مکمل ہونے پر سونے کی اور چاندی یا نقدی کی کل مالیت معلوم کرکے کل کا ڈھائی فی صد بطورِ زکات ادا کرنا آپ کی اہلیہ پر لازم ہوگا، نیز زکات ایک ساتھ ادا کرنا ضروری نہیں حساب کرنے کے بعد تھوڑی تھوڑی رقم بنیتِ زکات مستحقین زکات  کو دینے سے بھی زکات ادا ہوجائے گی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201016
تاریخ14-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں