بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مسجد کا قالین دوسری مسجد میں بچھانا کیسا ہے؟

سوال

ایک مسجد کا  قالین دوسری مسجد میں بچھانا کیساہے؟

جواب

ایک آباد مسجد کا سامان جیسے: چٹائی، قالین، وغیرہ، دوسری مسجد میں لے جانا جائز نہیں ہے۔ فتاوی دارالعلوم میں ہے: ”ایک مسجد آباد کا سامان دوسری مسجد میں لے جانا اور استعمال کرنا درست نہیں“ ۔(فتاوی دارالعلوم: ۳/۴۷۵)

قال ابن عابدین:

"ولایجوز نقلُه ونقل ماله إلی مسجد آخر، وهو الفتوی، حاوي القدسي. وأکثر المشائخ علیه، مجتبی، وهو الأوجه". (الدر المختار مع رد المحتار: ۶/۴۲۹، کتاب الوقف) 

البتہ اگر کثرتِ استعمال سے پرانا ہوجائے اور مسجد میں کوئی نیا قالین لے آئے یا  پرانے کی ضرورت نہ رہے اور اس مسجد سے زیادہ کسی اور مسجد کی ضرورت ہو تو دوسری مسجد میں دیا جاسکتاہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201011
تاریخ14-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں