بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوائی سے ایام ماہواری کو روکنا

سوال

کچھ عورتیں روزہ رکھنے کے لیے حیض روکنے کی دوائیں لیتی  ہیں ، اسی طرح کچھ عورتیں عمرہ کرنے کے لیے حیض روکنےکی دوائیاں لیتی ہیں،  کیا اس طرح کرنا اسلام میں جائز ہے؟

جواب

دوائیاں لے کر حیض کو روکنا ایک غیر فطری عمل ہے، جب عورت کو حیض آ جائے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ ان دنوں کے روزے نہ رکھے، پاکی کے ایام میں ان دنوں کی قضا کرلے، اس لیے دوا لے کر ماہواری روکنے کی ضرورت نہیں، خصوصاً جب کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو، البتہ اگر کسی عورت نے  ماہواری کو روک کر روزے رکھے یا عمرہ کیا تو اس کے روزے درست شمار کیے جائیں گے اور اس کا عمرہ بھی ادا ہوجائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201010
تاریخ14-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں