بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح واجب الاعادہ ہونے کی صورت میں اس میں پڑھے جانے والے قرآن کا اعادہ

سوال

تراویح واجب الاعادہ ہو اور وقت نکل جائے تو اس میں پڑھی گئی قرأت کا اعادہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

اس کی دو صورتیں ہیں:

1- تروایح کی نماز  اگر کسی وجہ سے فاسد ہوگئی مثلًا ایک رکعت پڑھی ہو یا کوئی فرض چھوڑدیا ہو تو اس صورت میں ان رکعت میں پڑھی گئی تلاوت کا اعادہ  بھی کرنا ہوگا۔

2- اور اگر تروایح کی نماز میں کوئی واجب رہ گیا ہو جس کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوا تھا تو اس صورت میں وقت کے اندر نماز کو لوٹانا ضروری ہوگا، اس لیے اس میں نقصان آگیا تھا، البتہ اس میں پڑھنے جانے والے قرآن کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہوگا۔

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 98):
"وإذا فسد الشفع وقد قرأ فيه لايعتد بما قرأه فيه ويعيد القراءة؛ ليحصل الختم في الصلاة الجائزة، وقال بعضهم: يعتد بها؛ لأن المقصود هو القراءة ولا فساد فيها". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200974
تاریخ13-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں