بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آسیب کا خطرہ ہو تو کیا کریں؟

سوال

میرے اندر کوئی اور شخصیت ہے، جو مجھے ڈراتی ہے، اور میرے ہر فیصلے اور کام میں وسوسے ڈالتی ہے، نیکی کے ہر کام میں وسوسہ ڈالتی ہے کہ یہ کام قبول نہیں ہوگاجس کی وجہ سے میں ذہنی مریض بن گیا ہوں، جسں کو بتاتا ہوں، میرا مذاق اڑاتا ہے، برائے  کرم میری مدد کر دیں!

جواب

آپ کے اندر کوئی شخصیت نہیں ہے، بلکہ یہ شیطان ہے جو آپ کے دل میں وساوس ڈال کر آپ کو عمل سے روکنا چاہتاہے اور آپ کو پریشان کر رہاہے، اس سے گھبرانے یا مایوس ہونے کے بجائے درج ذیل اعمال کا اہتمام کیجیے:

1-  ہروقت باوضو اور پاک رہنے کی کوشش کریں۔

2- پنج وقتہ نمازیں مقررہ اوقات میں پڑھنے کا اہتمام کریں۔

3- صبح وشام حفاظت کی مسنون دعاؤں کا اہتمام کریں۔  آیۃ الکرسی، اور آخری تین قل صبح وشام کم از کم تین تین مرتبہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیں۔
4- حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ اللہ کے مرتب کردہ کتابچے  "منزل" پڑھنے کا اہتمام کریں۔ 

5- جتنے نیک اعمال اور فرائض ہیں وہ پورے کریں، باقی قبول ہوتے ہیں یا نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے، بندے کو اس بارے میں وساوس کا شکار نہیں ہونا چاہیے، شیطان تو یہی چاہے گا کہ انسان اولاً کوئی نیک کام کرے نہیں، اور کرے تو وہ عمل مقبول نہ ہو، اس لیے اس کے وسوسے کی طرف دھیان نہ دیجیے،  ہمارے ٹوٹے پھوٹے اعمال کو ان شاء اللہ، باری تعالیٰ اپنے فضل سے کوتاہیاں دور فرماکر قبول کرلیں گے۔ جب یہ وسوسہ آئے تو آپ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اور سورہ اخلاص پڑھ کر کسی دوسرے مقصد کام میں مشغول ہوجائیں۔   فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200961
تاریخ12-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں