بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مساجد کو اللہ کا گھر کہنے کی کیا وجہ ہے؟ کیا مدرسہ کو نبی کا گھر کہنا درست ہے؟

سوال

لوگ مسجد کو خدا کا گھرکیوں کہتے ہیں؟  تو مدرسہ کو نبی کا گھرکہہ سکتے ہیں کیا؟

جواب

مساجد کو اللہ کا گھر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے مساجد کو اپنی طرف خود منسوب کیا ہے، ارشاد ہے:

وَ اَنَّ الْمَسَاجِدَ للهِ. بے شک  مساجد اللہ کی ہیں۔

اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود مساجد کو بیوت اللہ (یعنی اللہ کے گھر کا) نام دیا ہے، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت ذیل میں ہے:

"عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : "... وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ". ( مسلم رقم الحديث: 2699 )

جب کہ مدرسہ کی نسبت نہ اللہ رب العزت نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ہے اور نہ ہی خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، لہذا مدرسہ کو  اصطلاحی معنی میں نبی کا گھر کہنا درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200955
تاریخ12-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں