فکس ڈیپازٹ رکھنے والے شخص کی امامت کا حکم
سوال
جس آدمی نے اپنی رقم بینک میں فکس جمع کرا رکھی ہو کیا وہ شخص امام بن سکتا ہے اور اس کے پیچھے پڑھی گئی نمازوں کا کیا حکم ہے؟
جواب
بینک کے فکسڈ ڈپازٹ میں رقم رکھوا کر سود کمانا ناجائز اور حرام ہے، اگر کسی شخص نے جانتے ہوئے ایسا اکاؤنٹ کھلوایا ہے تو علم ہوتے ہوئے اس کی امامت میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی (ناجائز) ہے، البتہ گزشتہ پڑھی ہوئی نمازیں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144008200950
تاریخ12-05-2019

