بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مضاربت میں متعین نفع رکھنا

سوال

زید لوگوں سے کہتاہے کہ میں عمرکو رقم دیتاہوں، اس رقم پر نفع میں شریک ہوں جب کہ نقصان میں نہیں کوئی 20 لاکھ روپے پر 40ہزار لے رہا ہے، اس میں زید بھی کمیشن لیتاہے واسطہ بننے کا، کوئی 10لاکھ پر 20 ہزار، کمی پیشی بھی ہو تی ہے جب کہ لوگ عمر کو نہیں جانتے، البتہ یہ معلوم ہے کہ وہ پلاسٹک کا کام کرتا ہے ۔ایسے پیسے لگانا ٹھیک ہے زید کے ذریعے؟

جواب

مشارکت/ مضاربت مٰیں نفع کے ساتھ نقصان مٰیں شرکت بھی  ضروری ہے، یہ جائز نہیں  کہ انویسٹر کو صرف نفع ملے نقصان نہ ہو۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ  نفع بھی متعین نہ ہو، بلکہ  نفع کا فی صد متعین ہو۔ 

اگر مذکورہ صورت میں نفع کے ساتھ نقصان میں بھی شرکت ہو، اور نفع فی صدی حصے میں طے کیا جائے تو زید جو بروکر کے طور پر کام کرتا ہے اور لوگوں کی رقوم وہاں لگواتا ہے، اس کا طے کرکے اجرت (کمیشن) لینا درست ہوگا۔

" الربح على ما شرطا ، والوضيعة على قدر المالين " . (فتح القدير ، كتاب الشركة) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200942
تاریخ12-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں