بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک کا قرضہ ادا کرنا

سوال

میں ایک بینک میں ملازم ہوں، اسلامی بینک سے گھر کے لیے اسلامی مشارکہ لیا ہے، ہر وقت میرے ذہن میں ہے  کہ بینک کی نوکری سود ہے، لیکن میرے اوپر 21 لاکھ روپے کا قرضہ ہے، میں کوئی اور نوکری بھی نہیں کرسکتا۔ براہِ کرم میرے مسئلے کا حل بتائیں!

جواب

بینک سے معاملہ کرتے وقت آپ کو سوچنا اور مسئلہ معلوم کرنا چاہیے تھا، لہذا اولاً اپنے اس عمل پر دل سے استغفار کریں۔  اور ہرنماز کے بعد 11، 11 مرتبہ اول و آخر درود شریف پڑھ کر 11 مرتبہ اس دعا کو پڑھنے کا اہتمام کریں:

’’اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ‘‘.

نیز  حلال روزگار کے لیے اللہ تعالیٰ سے صدقِ دل کے ساتھ دعا اور سنجیدہ کوشش جاری رکھیں، اور ساتھ ساتھ استغفار اور توبہ بھی کرتے رہیں۔ اور جیسے ہی کوئی دوسری ملازمت مل جائے بینک کی نوکری کو چھوڑ دیں۔ اگر کسی دوسرے شعبے میں ملازمت میں مشکلات ہوں تو جائز کاروبار کے حوالے سے استخارہ اور اہلِ تجربہ سے مشورہ کرکے آغاز کریں، اور جیسے ہی معاشی سہارا مل جائے تو بینک کی ملازمت ترک کردیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200913
تاریخ11-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں