بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ دعائے تراویح کا ثبوت کیا احادیث سے ہے؟

سوال

تراویح کی چار رکعت کی تکمیل پر پڑھی جانے والی مشہور دعا : سبحان ذي الملک و الملکوت کیا حدیث سے ثابت ہے؟ اور اس حوالہ سے احادیث میں کوئی دعا مذکور ہے؟

جواب

تراویح کی ہر چار رکعت مکمل ہونے کے بعد پڑھی جانے والی مشہور دعا کسی روایت و حدیث میں ایک ساتھ نہیں ملتی، اور نہ ہی دعائے تراویح کے حوالہ سے کوئی دعا احادیث میں منقول ہے، البتہ مختلف روایات میں وارد دعاؤں کو جوڑ کر عوام کی سہولت کی خاطر بعض فقہاء نے اسے ترتیب دیا ہے، جس کے الفاظ درج ذیل ہیں:

«سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ نَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، نَسْأَلُك الْجَنَّةَ وَنَعُوذُ بِك مِنْ النَّارِ»

تاہم مذکورہ دعا پڑھنا لازم نہیں ہے، لہذا نمازی ہر چار رکعت کی تکمیل پر دیگر تسبیحات، ذکر و اذکار، تلاوتِ کلامِ مجید کچھ بھی کر سکتا ہے۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(يَجْلِسُ) نَدْبًا (بَيْنَ كُلِّ أَرْبَعَةٍ بِقَدْرِهَا وَكَذَا بَيْنَ الْخَامِسَةِ وَالْوِتْرِ) وَيُخَيَّرُونَ بَيْنَ تَسْبِيحٍ وَقِرَاءَةٍ وَسُكُوتٍ وَصَلَاةٍ فُرَادَى، نَعَمْ تُكْرَهُ صَلَاةُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ".

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: بَيْنَ تَسْبِيحٍ) قَالَ الْقُهُسْتَانِيُّ: فَيُقَالُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: «سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ نَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، نَسْأَلُك الْجَنَّةَ وَنَعُوذُ بِك مِنْ النَّارِ»، كَمَا فِي مَنْهَجِ الْعِبَادِ. اهـ". (شامي، كتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاة التراويح، ٢/ ٤٦) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200907
تاریخ11-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں