بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلبِ علم میں مشغولیت کی وجہ سے مانعِ حمل تدبیر اختیار کرنا

سوال

اگر زوجین یا زوجین میں سے کوئی ایک طلبِ علم میں مشغولیت کے سبب حمل روکنا چاہتے ہوں،تو کیا ان کے لیے حمل روکنا جائز ہے؟ 

جواب

طلبِ علم میں مشغولیت کی وجہ سے اگر بچے کی تربیت اور صحیح پرورش نہ کرسکنے کا اندیشہ ہو تو عارضی طور پر مانعِ حمل تدبیر کی جاسکتی ہے۔

لیکن اس وجہ سے مانعِ حمل تدبیر اختیارکرنا درست نہیں ہے  کہ مشغولیت کی وجہ سے بچے کے کھانے پینے اور خرچہ کا بندوبست اور  انتظام نہیں ہوسکے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200899
تاریخ11-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں