بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کی رضامندی کے بغیر زبردستی کرائے گئے نکاح کا حکم

سوال

میں ایک لڑکی کو 16 سال سے چاہتا تھا اور وہ بھی مجھے چاہتی تھی، لڑکی کے گھر والے ایک دفعہ رضا مند ہو گئے،  لیکن بعد میں لڑکی کا والد غیر برادری کی وجہ سے انکاری ہو گیا اور لڑکی کی رضا مندی کے بغیر زبردستی اور اسے امو شنل بلیک میل کر کے اس کا نکاح کسی دوسرے لڑکے سے کر دیا تو کیا یہ نکاح جائز ہو گیا؟

جواب

اگر لڑکی نے نکاح پر رضامندی دے دی تھی،  اگر چہ وہ دل سے رضامند نہیں تھی تو نکاح منعقد ہوگیا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200893
تاریخ11-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں