لڑکی کی رضامندی کے بغیر زبردستی کرائے گئے نکاح کا حکم
سوال
میں ایک لڑکی کو 16 سال سے چاہتا تھا اور وہ بھی مجھے چاہتی تھی، لڑکی کے گھر والے ایک دفعہ رضا مند ہو گئے، لیکن بعد میں لڑکی کا والد غیر برادری کی وجہ سے انکاری ہو گیا اور لڑکی کی رضا مندی کے بغیر زبردستی اور اسے امو شنل بلیک میل کر کے اس کا نکاح کسی دوسرے لڑکے سے کر دیا تو کیا یہ نکاح جائز ہو گیا؟
جواب
اگر لڑکی نے نکاح پر رضامندی دے دی تھی، اگر چہ وہ دل سے رضامند نہیں تھی تو نکاح منعقد ہوگیا ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144008200893
تاریخ11-05-2019

