بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زبردستی طلاق کا حکم

سوال

میری پسند کی شادی ہوئی اور جب ایک ہفتے بعد میرے سسرال والوں کو اس نکاح کا پتا چلا تو میرے بہنوئی نے زبردستی کر  کے میرے شوہر سے طلاق کے کاغذات پر دستخط کروا لیے، نہ میں لینا چاہتی  تھی اور نہ میرے شوہر طلاق دینا چاہتے تھے، میرے بہنوئی نے دھمکی دی اگر تم نے طلاق نامہ  پر دستخط نہیں کیے تو میں تمہاری بہن کو طلاق دے دوں گا اور دستخط کروا لیے۔  اب میرے شوہر نے مجھ سے رابطہ کیا ہے کہ میں تم کو طلاق دینا نہیں چاہتا تھا۔ براہِ کرم مجھے اس کا حل بتائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق نامہ میں جس قدر طلاقیں درج ہیں، اس قدر طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ آئندہ کے لیے شرعی حکم جاننے کے لیے طلاق نامے میں مذکورہ طلاق کے الفاظ اور ان کی تعداد، نیز اس بات کی وضاحت کہ نکاح کے بعد رخصتی بھی ہوئی تھی یا نہیں؟ کرکے سوال دوبارہ ارسال کردیجیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200870
تاریخ10-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں