بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے میں حیض آجائے

سوال

روزے میں حیض آجائے 12 بجے سے پہلے تو کیا کرے؟

جواب

افطار کے وقت سے پہل کسی بھی وقت حیض آجائے ، تو اس دن کا روزہ فاسدہوگا، اور اس کے بدلہ قضا کرنا واجب ہوگی، جو عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو،  اسے کھانا پینا چاہیے۔

"وأما في حالة تحقق الحیض و النفاس فیحرم الإمساك؛ لأن الصوم منهما حرام، والتشبه بالحرام حرام". (طحطاوی علی المراقی : ص : ۳۷۰ )

البتہ اگر دن کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد پاک ہوگئی تو اب دن کے بقیہ حصہ میں کھانے پینے سے رُکا رہنا چاہیے۔ 
’’یجب علی الصحیح، و قیل: یستحب الإمساك ... وعلی حائض و نفساء طهرتا بعد طلوع الفجر‘‘. (مراقی الفلاح : ص : ۳۷۰) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200852
تاریخ09-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں