بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی نماز میں ہر چار رکعت پر سلام پھیرنا

سوال

کیا تراویح چار چار جوڑ کر پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

تراویح کی نماز میں امتِ مسلمہ  کا توارث اسی پر چلا آیا ہے کہ ہر دو رکعت پر سلام پھیرا جائے اور دس سلام کے ساتھ بیس رکعت مکمل کی جائے، لیکن اگر کوئی شخص چار  چار رکعت پر سلام پھیرتا ہے اور قعدہ اولیٰ میں بیٹھتا ہو  تو اس کی تراویح درست ہو جائے گی، لیکن قصداً  ایسا کرنا مکروہ ہے۔

اور اگر دو رکعت پر قعدہ ہی نہیں کیا؛ بلکہ صرف قعدہ اخیرہ کیا تو مفتی بہ قول کے مطابق صرف دو رکعت تراویح شمار ہوں گی، باقی محض نفل، تراویح نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 45):
"(وهي عشرون ركعةً) حكمته مساواة المكمل للمكمل (بعشر تسليمات) فلو فعلها بتسليمة؛ فإن قعد لكل شفع صحت بكراهة وإلا نابت عن شفع واحد، به يفتى".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 45):
"(قوله: وصحت بكراهة) أي صحت عن الكل. وتكره إن تعمد، وهذا هو الصحيح، كما في الحلية عن النصاب وخزانة الفتاوى. خلافاً لما في المنية من عدم الكراهة، فإنه لايخفى ما فيه لمخالفته المتوارث".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200834
تاریخ09-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں